64

‏” اللّٰہ کی خوبصورت نعمت یقین”

یقین کا مطلب اللہ کی ذات پر مکمل بھروسا اور اطمینان ہے۔دینِ اسلام کے ماننے والے اللہ کی ذات پر یقین رکھتے ہیں۔کائنات کی تخلیق سے لے کر اس کے اندر ہر ہر چیز کو پیداکرنے والا،ہر ہر چیز کوعلم،زندگی اورموت دینے والا صرف ایک ہی ہے اور وہ اللہ سبحانہ کی ذات ہے۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں ایک جگہ بیان کیا ہے کہ” تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاو گے ” اللہ پاک نے اپنے بندوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اور یقین بھی ان میں سے ایک بہترین نعمت ہے اگر یقین انسان کی زندگی میں نہ ہوتا تو انسان کی زندگی بے معنی ہوجاتی. ہم دعا بھی اس یقین سے مانگتے ہے کہ قبول ہوگی ہے ، ہم سوتے ہے تو اس یقین کے کے ساتھ کہ ایک نٸ صبح ہمارے انتظار میں ہے اگر یہ یقین نہ ہوتو انسان کبھی نہ سوے ، اگر مسافر کو منزل پر پہنچنے کا یقین نہ ہوتو وہ کبھی سفر ہی نہ کریں اگر بیمار کو شفایابی کا یقین نہ ہوتو وہ سرواٸیو ہی نہ کر پاے.
کرونہ واٸرس نےاس وقت ہر ملک کو اپنے لپیٹ میں لیاہوا ہوا ، اور بہت سے لوگ اس وبا کی لپیٹ میں بھی ہے لیکن ہم جو زندہ ہے صرف اس امید کے ساتھ کہ ایک دن یہ وبا ختم ہوجاے گی اور انسانی ذندگی پھر سےنورمل روٹین میں آجاے گی سوچیں یہ یقین نہ ہوتا تو آج کیا حالات ہوتے؟؟ پاکستان نے عالمی وبا سے کافی حد تک نجات پالی ہے حکمرانوں کی بہترین پولیسی اور عوام کا اس یقین کے ساتھ کہ ایک دن سب ٹھیک ہوجاے گا بے شک یقین اللہ پاک کی ایک بہترین نعمت ہے.
زندگی میں مشکلات انہیں کے آڑے آتی ہے جو باہمت اور مقصدِ حیات پر قاٸم رہتے ہے جو کسی بھی آندھی اور طوفان کو سر کرنے سے گھبراتے نہیں ہے ، بلکہ اپنے قدم پہلے سے ذیادہ مضبوط کر لیتے ہے اور سے ذیادہ باہمت دکھاٸ دیتے ہیں منزل کی کامیابی ایسے ہی لوگوں کے قدم چومتی ہے جو منزل کو پانےاور اپنے خوابوں کی شرمندہ تعبیر ہونے پر پورا یقین رکھتے ہیں اوریہ یقین ہی ہے جو ہر کام کے پورا ہونے کی بنیاد ہوتا ہے.
انسان کی کامیابی کا حصار تو وہیں سے شروع ہو جا تا ہے جہاں وہ درد کو سہنے اور کامیابی تک سہنے کا فیصلہ کر لیتا ہے اس یقین کے ساتھ کہ وہ کر سکتا ہے.

یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے

ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے

تحریر : سیدہ ودیعہ انور

آپ سیدہ ودیعہ انور کو ٹویٹر پر بھی @its_Amanat فالو کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں