siasidugout 251

‏آؤ اپنے حصے کی شمع جلائیں

اگست کا مہینہ ہر طرف سر سبز پرچموں کی بہار
گویا کائنات کا سارا سبزہ ہمارے شهروں،دیہاتوں،گلیوں بازاروں میں اُمڈ آیا ہو
سرکاری دفاتر ہوں یا چھوٹا سا ٹھیلے والا سبھی نے وطن سے محبت کے اظہار کا اپنا انداز اپنایا ہے
کہیں شام ڈھلتے سڑکوں پر بنا سائلنسر کے موٹر سائیکلوں کا شور تو کسی نے گاڑی کو جھنڈے سے سجایا ہوا
لیکن اس سب میں کبھی ہم نے سوچا کہ کیا یہ طرز انداز ٹھیک ہے جشن آزادی ماننے کا؟
تو ایک لمحے کے لیے دل و دماغ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ نہیں
با حثیت پاکستانی ہم ایسا کون سا کام سارا سال کرتے ہیں کہ ہم سرخرو ہو کے اپنے گھر اور سینے پر سبز ہلالی پرچم سجا لیں
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہو یا بنک میں بل جمع کروانے کے لیے لمبی قطار چھوڑ کر کاؤنٹر پر دوست کا حوالہ دیتے ہوئے سب سے پہلے کام کروا کر دوسروں کی حق تلفی کرنا ہو
اپنی شاہراہوں پر دورانِ سفر خالی پیکٹس پھینکنے ہوں یا ارض پاک میں خاندان کے ساتھ کسی تفریقی مقامات کی سیر پر جا کر کوڑا کرکٹ پھیلانا ہو
کسی پبلک ٹرانسپورٹ میں بزرگ شہری کھڑے ہوں یا خواتین ہم اپنی جگہ نہیں چھوڑتے کیوں بھئی کرایا نہیں دیا کیا؟
سرکاری اسپتالوں میں سفارش پر مستحق مریضوں کی تذلیل کرتے ہوئے ہمیں کبھی سبز پرچم یاد کیوں نہیں آتا؟
اپنے اداروں کے خلاف چوک چوراہوں میں بیٹھ کر اونچی بے ہنگم آوازوں میں گالی دیتے ہوئے یہ پرچم یاد کیوں نہیں آتا؟
سکول کالجز یونیوسٹیز میں با حثیت معلم کبھی سوچا کتنی ایمانداری سے بچوں کو تعلیم جیسے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں؟
بڑی بڑی عدالتوں میں بیٹھے اِنصاف کے ٹھیکیداروں نے کبھی سوچا جس منصب پر فائز ہیں کیا اس سے اِنصاف کر رہے ہیں؟
کسی نیوز چینل پر بیٹھ کر جھوٹ کا زہر اپنی سنسنی خیز خبریں سے عوام کے زہنوں میں اتارتے ہوئے کبھی خیال آیا اس پرچم کا؟
یو ٹیوب پر محض چند لائیکس کے لئے لوگوں کی عزتوں اور زندگیوں سے کھیلتے ہوئے کبھی سوچا اس پرچم کا؟
مساجد میں مدراس میں پاکیزگی کے اعلی درجے پر بیٹھ کر کسی معصوم کلی کو مسلتے ہوئے لمحے بھر کو اس وطن کے لیے لٹنے والی بہنوں بیٹیوں کی پامال عصمتوں کا گماں گزرا ؟
یقینا نہیں
تو پھر کیسے مان لیں کہ آپکو جشن آزادی کی تقریبات منانے کا حق حاصل ہے
کیوں ہر کام کے لئے حکومت کی طرف دیکھا جاتا کیوں ہم انفرادی طور پر خود کو ٹھیک کر کے دوسروں کے لیے مثال بنتے
کیوں ہم ہر بار یہ سوچتے ہیں کہ ایک ہمارے اچھا کرنے سے کیا ہو گا
اور جس روز ہم نے اس ہجوم میں سے اٹھ کر خود کو ایک سچا پاکستانی سمجھ لیا تب ہم اپنے حصے کی شمع جلانے میں کامیاب ہوں گے
پرچم ضرور لگائیں لیکن گلیوں میں بازاروں میں جھنڈیاں لگانے سے گُریز کریں کیوں کہ وہ بعد میں کوئی نہیں اتارتا اور اس خون سے سينچے گئے سبز ہلالی پرچم کی توہین ہوتی ہے
اس کی بے حرمتی سے بچیں یہ سبز اور سفید رنگ کا کپڑے کا ٹکڑا ہمارا غرور ہے پہچان ہے شناخت ہے
ذرا محکوم قوموں سے پرچم کی حرمت کا ذکر سنیں آپ کی روح کانپ اٹھے گی تو
جو پرچم جو وطن لاکھوں افراد کی قربانیوں کی بدولت ملا ہے آئیں عہد کریں ہم اسکی قدر کریں گے اسکا وقار اسکی حرمت کے لئے اپنے حصے کا فرض ادا کرنے کی چھوٹی سی کوشش کریں گے اور جھنڈیوں کی بجائے درخت لگائیں گے کیوں کہ ہمارے ملک میں ناگہانی آفات کی ایک بڑی وجہ درختوں کی کٹائی اور کمی ہے ہم درخت لگا کر ناں صرف پاکستان کو محفوظ کریں گے بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ایک خوب صورت سر سبز سائبان چھوڑ کر جائیں گے
ہمارے لگائے گئے پودوں کو درخت بنتا دیکھیں گے اور ہمارے بچے انکی چھاؤں میں ہماری یادوں کے قصے دہرائیں گے درخت لگانا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ہے جیسا کہ ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ ایمان والوں پر شجر کاری کو صدقہ قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’’جو مسلمان دَرخت لگائے یا فَصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا اِنسان یا چوپایا کھائے تو وہ اس کی طرف سے صَدَقہ شُمار ہوگا (صحیح البخاری)
بقول شاعر

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے
جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے
ظفر زیدی

تحریر: ارم چوھدری

آپ ارم چوھدری کو ٹویٹر پر @IrumWarraich4 بھی فالو کر سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

‏آؤ اپنے حصے کی شمع جلائیں“ ایک تبصرہ

  1. پاکستان اللّه کے رازوں میں سے ایک راز ہے اسکی قدر کرو اسکی آزادی کی قدر کرو ان سے نفرت کرو جو آپ کے پاک ملک سے نفرت کرتے ہیں اور اپنی پاک آرمی کی ہمیشہ حمایت کرو کسی بھی سیاسی پارٹی سے آپ ہوں لیکن سب سے پہلے اپنے ملک پاکستان کو ہی رکھو کیوں کے آپ اب جس مقام پر ہو وہ اسی پاک ملک کی وجہ سے ہو اپنے ملک سے پیار کرنا میرے نبی کی سنّت ہے اپنے پاکستان کے خلاف بولنے والوں کو جواب دو اگر جواب نہیں دے سکتے تو انکو دل سے برا جانو یاد رکھو اس ملک پاکستان کی بنیادوں میں شہیدوں کا خون ہے اس خون کی قدر کرو اپنے ملک پاکستان کے ہر اک حصّے سے پیار کرو آپ کا ہر عمل اسلام و پاکستان کے لئے ہونا چاہیے چاہے آپکو کوئی پسند کرے یا نہیں بس یاد رکھو آپکو اپکا رب دیکھ رہا ہے آخرت میں لوگوں نے نہیں اللّه نے ہی آپ سے آپ کے اعمال کا حساب لینا ہے اسلئے لوگوں سے ڈرنا بند کرو اور اسلام و پاکستان کے لئے ہی کام کرو جہاں بھی ہو جیسے بھی ہو بس اسلام و پاکستان کے لئے ہی اپنے دل و دماغ کو حاضر رکھو تیار رکھو جب موقع ملے تو اسلام و پاکستان کے لئے اپنی جان دینے سے بھی گریز نہ کرو اپکا خون اگر اسلام و پاکستان کے لئے بہا تو ہوسکتا ہے یہی خون آپ کی بخشش کا سبب بن جائے لہٰذا یاد رکھو آپ کچھ نہیں لیکن آپ کے اعمال بہت کچھ ہوسکتے ہیں جس سے آپ کی اور آپ کی نسلوں کو اسکا فائدہ مل سکتا ہے اللّه حافظ

اپنا تبصرہ بھیجیں